📅 آج کی تاریخ: 27 جنوری 2026
سونا نئی تاریخی بلند ترین سطح پر — عالمی گولڈ مارکیٹ میں زبردست تیزی
عالمی گولڈ مارکیٹ میں آج سونے نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے اور قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ فروری کے COMEX گولڈ فیوچر میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جہاں ایک ہی دن میں قیمت میں سو ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارکیٹ میں مضبوط سرمایہ کاری رجحان کی واضح علامت ہے۔
اس نمایاں اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن ہے، جبکہ امریکا کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ متبادل اثاثوں کی جانب متوجہ کر دیا ہے۔ ایسے غیر یقینی حالات میں سونا ایک بار پھر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مرکز بن گیا ہے۔
پاکستان میں آج سونے کی تازہ قیمتیں (لائیو)
| سونے کی قسم | قیمت (PKR) |
|---|---|
| 24 قیراط سونا (فی گرام) | 45,525.17 روپے |
| 22 قیراط سونا (فی گرام) | 41,731.41 روپے |
| 21 قیراط سونا (فی گرام) | 39,834.53 روپے |
| اسپاٹ گولڈ (فی اونس) | 1,415,833 روپے |
| سونا (فی تولہ) | 530,997 روپے |
عالمی حالات اور مارکیٹ رجحان
بین الاقوامی سطح پر مختلف خطوں میں جاری تنازعات، جن میں مشرق وسطیٰ، یوکرین اور دیگر حساس علاقے شامل ہیں، عالمی مالی منڈیوں میں دباؤ پیدا کر رہے ہیں۔ ان حالات نے سونے کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
مزید برآں مارکیٹ میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو آئندہ عرصے میں نرم مالی پالیسی اختیار کر سکتا ہے، جس سے شرح سود میں ممکنہ کمی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسی توقعات عموماً سونے کی قیمتوں کو اضافی سہارا فراہم کرتی ہیں۔
مرکزی بینکوں کی خریداری
مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری بھی عالمی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔ کئی ممالک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو متوازن کرنے کے لیے سونے میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ گولڈ ETFs میں سرمایہ کاری بھی حالیہ برسوں کی بلند سطح پر موجود ہے۔
پاکستانی مارکیٹ پر اثرات
عالمی سطح پر سونے کی اس تیزی کا اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں سونے کی قیمتیں عالمی رجحانات کے مطابق تبدیل ہو رہی ہیں۔
نوٹ: یہ قیمتیں عالمی گولڈ مارکیٹ اور لائیو ڈیٹا پر مبنی ہیں، مقامی صرافہ مارکیٹ میں معمولی فرق ممکن ہے۔
